قریب المرگ
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - موت کے قریب، کوئی دم کا مہمان، نزع میں پڑا ہوا۔ "اس کا مقابل ایک بیمار اور قریب المرگ شخص تھا۔" ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ صفت 'قریب' کے ساتھ 'ا ل' بطور حرف تخصیص لگانے کے بعد فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'مرگ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٠ء میں "خطبات احمدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - موت کے قریب، کوئی دم کا مہمان، نزع میں پڑا ہوا۔ "اس کا مقابل ایک بیمار اور قریب المرگ شخص تھا۔" ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٢ )